پس نیکیوں کی طرف جلدی کرو

نیکیوں کی طرف جلدی کرنے اور طالب خیر کو اس بات پر آمادہ کرنے کا بیان کہ وہ نیکی کو محنت اور توجہ کے ساتھ کسی قسم کے تردد کے بغیر اختیار کرے۔

اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

''پس نیکیوں کی طرف جلدی کرو''
(سورة البقرة:14

نیز فرمایا:

''جلدی کرو اپنے رب کی مغفرت اور جنت کی طرف، جس کی چوڑائی آسمان و زمین ہے، تیار کی گئی ہے پرہیز گاروں کیلئے۔"
(سورہ آل عمران:133)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''نیک اعمال کرنے میں جلدی کرلو، ایسے فتنوں کے رونما ہونے سے پہلے جو اندھیری رات کے مختلف ٹکڑوں کی طرح رونما ہوں گے، صبح کے وقت آدمی مومن ہوگا تو شام کے وقت کافر اور شام کے وقت مومن ہوگا تو صبح کے وقت کافر، وہ اپنے دین کو دنیا کے معمولی سامان کے عوض بیچ د ے گا۔''
(مسلم)
توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم (11
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث 
حضرت ابو سروعہ (سین کی زیر یا زبر) عقبہ بن حارث بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے مدینہ میں نماز عصر پڑھی پس آپ نے سلام پھیرا، پھر تیزی سے کھڑے ہوئے اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتے ہوئے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک کے حجرے کی طرف تشریف لے گئے۔ لوگ آپ کی اس تیزی سے گھبرا گئے پھر آپ واپس ان کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ صحابہ نے آپ کے اس تیزی سے جانے پر تعجب کیا ہے، تو آپ نے فرمایا: ''مجھے اپنے گھر میں پڑی ہوئی سونے کی ایک ڈلی یاد آگئی پس میں نے یہ پسند نہ کیا کہ یہ (ڈلی) مجھے (اللہ کی یاد سے) روک دے، لہٰذا میں نے اسے تقسیم کرنے کا حکم دیا''
(بخاری)

اور بخاری ہی کی ایک اور روایت میں ہے:
''میں گھر میں صدقے کی ایک ڈلی چھوڑ آیا تھا، پس میں نے اسے رات کو گھر رکھنا پسند نہیں کیا۔''

توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (3372۔فتح) و الروایة الثانیة عندہ (2993۔فتح)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث
حضرت جابر بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے غزوۂ احد کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ اگر میں شہید کردیا جاؤں تو میں کہاں جاؤں گا؟ آپ نے فرمایا: ''جنت میں۔'' پس اس شخص نے اپنے ہاتھ میں موجود کھجوریں پھینک دیں پھر لڑا حتیٰ کہ وہ شہید ہو گیا۔''
(متفق علیہ)
توثیق الحدیث :أخرجہ البخاری (3547فتح) و مسلم(1899)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث نمبر
حضرت ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے سوال کیا: اے اللہ کے رسول! کون سا صدقہ اجر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے؟" آپ نے فرمایا: ''(وہ صدقہ اجر کے لحاظ سے سب سے بڑا ہے جو) تم اس حال میں صدقہ کرو کہ تم صحیح اور تندرست و توانا ہو، تمہیں مال کی حرص بھی ہو، تمہیں فقر کا اندیشہ ہو اور تونگری کی امید ہو۔ اور تم صدقہ کرنے میں تاخیر نہ کرو یہاں تک کہ جب (روح) گلے تک پہنچ جائے تو تم کہو: فلاں کے لئے اتنا اور فلاں کے لیے اتنا، جب کہ وہ تو فلاں کے لیے ہو چکا۔''
(متفق علیہ)
توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (2853۔فتح) و مسلم (1032) (93)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث 
حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ أحد کے دن ایک تلوار پکڑی اور فرمایا: ''یہ تلوار مجھ سے کون لے گا؟" صحابہ کرام نے اپنے ہاتھ آگے کیے اور ان میں سے ہر ایک کہہ رہا تھا: میں، میں۔ آپ نے فرمایا: ''کون اسے اس کے حق کے ساتھ لے گا؟'' پس سب لوگ پیچھے ہٹ گئے تو حضرت ابودجانہ نے کہا: میں اسے اس کے حق کے ساتھ لوں گا۔ پس انھوں نے اسے لیا اور مشرکین کی کھوپڑیاں اڑادیں۔
(مسلم)
توثق الحدیث:أخرجہ مسلم (2470)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث
زبیر بن عدی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ہم نے حجاج کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کے بارے میں ان سے شکایت کی تو انھوں نے فرمایا: ''صبر کرو، اس لیے کہ اب جو بھی وقت آئے گا وہ پہلے سے بدتر ہوگا حتیٰ کہ تم اپنے رب سے جاملو '' میں نے یہ بات تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔
(بخاری)
توثیق الحدیث: أخرجہ البخاری (1913،فتح)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ''سات چیزوں سے پہلے اعمال کرنے میں جلدی کرلو، کیا تم کو ایسے فقر کا انتظار ہے جو بھلا دینے والا ہے؟ یا ایسی دولت مندی کا جو تمہیں حد سے تجاوز کرنے والا بنانے والی ہے؟ یا ایسی بیماری کا جو فساد پیدا کرنے والی ہے؟ یا ایسے بڑھاپے کا جو عقل و ہوش میں بگاڑ پیدا کرنے والا ہے؟ یا موت کا جو کام تمام کرنے والی ہے۔؟ یا دجال کا جو بہت بڑی برائی ہے، ہر اس پوشیدہ برائی سے جس کا انتظار کیا جائے۔ یا قیامت کا، پس قیامت تو بہت ہی ہولناک اور نہایت تلخ ہے۔''
(ترمذی۔ حدیث حسن ہے)
توثیق الحدیث :ضعیف جد اً ،أخرجہ الترمذی (2306)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔

حدیث
حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوۂ خیبر کے روز فرمایا: ''میں یہ جھنڈا ایسے شخص کو عطا کروں گا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر فتح عطا فرمائے گا۔'' حضرت عمر نے فرمایا: میں نے اس روز کے علاوہ کبھی امارات کی خواہش نہیں کی، پس میں اس کے لئے اُٹھ اُٹھ کر اس امید پر بلند ہوتا کہ اس (امارت) کے لیے مجھے بلالیا جائے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی بن ابی طالب کو بلایا اور امارت ان کے سپرد کی اور پھر فرمایا: ''سیدھے جاؤ اور مڑ کر نہ دیکھنا حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح یاب کردے۔'' پس حضرت علی تھوڑا ساچلے اور ٹھہر گئے، انھوں نے مڑ کر نہ دیکھا اور بہ آواز بلند کہا: "اے اللہ کے رسول! میں کس چیز پر لوگوں سے قتال و جہاد کروں؟" آپ نے فرمایا: ''ان سے جہاد کرو حتیٰ کہ وہ گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ پس جب وہ یہ کرلیں تو انھوں نے اپنی جانیں اوراپنے مال تم سے محفوظ کرلیے البتہ اس کلمے کے حق کے ساتھ اور ان کا حساب اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے۔''
(مسلم)۔
توثیق الحدیث: أخرجہ مسلم(2405)

Comments

Popular posts from this blog

Who Was The Foster Sister Of Prophet Muhammad(صلی اللہ علیہ وسلم)

اصحاب کہف

کیا مرد اور عورت ایک برتن میں غسل کر سکتے ہیں؟ غسل کا بیان ۔۔ صحیح البخاری۔۔ حدیث 253