Posts

عشق و محبت کی انوکھی داستان

Image
عشق و محبت کی انوکھی داستان  مولانا جلال الدین رومی رحمتہ اللّہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے عشق کی انتہا کا واقعہ پڑھا آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک دن حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ عنہُ حضور نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو مسجد میں نہ پا کر بے تاب ہو گئے اور شوقِ دِید میں نِکلے دریافت کِیا تو کسی نے پہاڑ کی طرف اِشارہ کِیا وہاں گئے تو چرواہا بکریاں چَرا رہا تھا اس سے پوچھا کہ میرے آقا صلی اللّہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو کہیں دیکھا ہے؟ اس چرواہے نے کہا میں تیرے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کو تو نہیں جانتا اِتنا جانتا ہوں کہ اس غار میں تین دن رات سے کوئی اس قدر درد و سوز سے سجدے میں گریہ و زاری کر رہا ہے کہ میری بکریوں نے ہی نہیں بلکہ تمام چرِند و پرِند نے کھانا پینا ہی چھوڑا ہُوا ہے حضرت ابوہریرہ رضی اللّہ عنہُ نے فرمایا کچھ جانتا ہے کیا الفاظ بول رہا ہے؟ تو چرواہے نے کہا می کند با گریہ ہر ساعتی نالہء یااُمّتی یااُمّتی ہر گھڑی یااُمّتی یااُمّتی کی پُکار کر رہا ہے اپنی موجودہ اور اپنے ب...

پندرہ شعبان (شبِ برأت) کی فضیلت

Image
پندرہ شعبان (شبِ برأت) کی فضیلت تحریر : شیخ الاسلام حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی صاحب شب ِ برات کے بارے میں یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس کی کوئی فضیلت حدیث سے ثابت نہیں ، حقیقت یہ ہے کہ دس صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث مروی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے اس رات کی فضیلت بیان فرمائی، ان میں سے بعض احادیث سند کے اعتبار سے بیشک کچھ کمزور ہیں اور ان احادیث کے کمزور ہونے کی وجہ سے بعض علماءنے یہ کہہ دیا کہ اس رات کی فضیلت بے اصل ہے، لیکن حضرات محدثین اور فقہاءکا یہ فیصلہ ہے کہ اگر ایک روایت سند کے اعتبار سے کمزور ہو لیکن اس کی تایید بہت سی احادیث سے ہوجائے تو اسکی کمزوری دور ہوجاتی ہے، اور جیساکہ میں نے عرض کیا کہ دس صحابہ کرام سے اسکی فضیلت میں روایات موجود ہیں لہٰذا جس رات کی فضیلت میں دس صحابہ کرام سے روایات مروی ہوں اس کو بے بنیاد اور بے اصل کہنا بہت غلط ہے۔ شب برات میں عبادت :۔ امت مسلمہ کے جو خیرالقرون ہیں یعنی صحابہ کرام کا دور ، تابعین کا دور، تبع تابعین کادور، اس میں بھی اس رات کی فضیلت سے فائدہ اٹھانے کا اہتمام کیا جاتا رہا ہے،لوگ اس ر...

حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھَا

اُمُّ المؤمنین    حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھَا نبی کریم صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دریائے رحمت، چشمہ علم و حکمت اور فیضِ صُحبت سے حصہ پانے والی خوش نصیبوں میں ایک حضرت سیّدتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا بھی ہیں جو کہ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کی صاحبزادی ہیں۔ نام و نسب:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا حُضُور عَلَیْهِ الصَّلٰوۃُ والسَلَام کے اِعلانِ نُبُوَّت سے 5 سال پہلے پیدا ہُوئیں، آپ کا نام حفصَہ اور والِدَہ کا نام زینب بنتِ مَظعُون تھا۔ آپ اپنے والدِ محترم کی ترغیب پر نورِ ایمان سے مشرف ہوئیں اور اپنے پہلے شوہر حضرت خُنیس بن حُذافَہ سہمی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ مُنوَّرَہ ہجرت فرمائی۔                                    (طبقات کبریٰ، 65/8) اوصاف و کردار:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نہایت بلند ہمت، بکثرت روزے رکھنے والی اور رات عبادت میں گزارنے والی عاب...

اصحاب کہف

اَصحابِ کَہف آج سے تقریباً 2 ہزار سال پہلے ملکِ رُوم کے شہر اُفسُوس میں ایک ظالم بادشاہ دَقیانُوس کی حکومت تھی جو شخص بُتوں کی پُوجا نہ کرتا اسے قتل کروا دیتا تھا ایک دن اِیمان والوں کے قتل کا مَنظر دیکھنے کے لئے چند نوجوان آئے اللّٰه عزوجل نے اُن کی آنکھوں سے پَردے ہٹا دیئے تو اُنہوں نے دیکھا کہ جس مؤمن کو بھی قتل کیا جاتا فرشتے آسمان سے اُترتے اور اُس کی رُوح کو اپنے ساتھ لے جاتے یہ اِیمان اَفروز مَنظر دیکھ کر وہ سب نوجوان ایمان لے آئے۔ تین دن کی مہلت بادشاہ دَقیانُوس کو سفر پر جاتے ہوئے اِس بات کا عِلم ہوا تو اُس نے اُنہیں 3 دن کی مہلت دی کہ میرے واپس آنے تک ایمان سے پِھر جاؤ ورنہ تمہیں قتل کر دیا جائے گا تیسرے دن یہ صاحبِ ایمان نوجوان کچھ مال لے کر رات کے وقت شہر سے رُخصت ہو گئے راستے میں اُنہیں اپنے خاندان کی بکریاں چَرانے والا ایک چَرواہا ملا جسے اُنہوں نے اپنا ماجرا بیان کیا اور اسے بھی اِیمان کی دعوت دی چَرواہے نے اِیمان قبول کیا اور اُن کے ساتھ شامل ہو گیا چَرواہے کا رَکھوالی کرنے والا کُتّا بھی ساتھ ہی چل پڑا یہ سب سفر کرتے کرتے صُبح کے وقت شہر سے تقریباً 6 میل دُور ایک ...

تم ہی میرے مخلص بندے ہو۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿّﺪﻧﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿّﺪﻧﺎ ﺳَﺮِﯼ ﺳَﻘﻄﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻗﯿﺎﻡ ﮐِﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣِﺼّﮧ ﮔُﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﮮ ﺟﻨﯿﺪ ) ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ( ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ... ؟ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ .. ﺣﻀﻮﺭ !... ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ . ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩِﮔﺎﺭ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺑُﻼ ﮐﺮ ﺍِﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﮮ ﺳَﺮِﯼ !... ﮐﯿﺎ ﺗُﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ?... . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ .. ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻟﻖ ﻋﺰ ﻭ ﺟﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ۔ . ﺍﻟﻠّﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍِﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐِﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐِﯿﺎ۔ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐِﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ۔ . ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﻮ ﺳﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺁﻻﻡ ﻭ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯿﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧَﻮﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻘﯿﮧ ﺩﺱ ﺑﭽﮯ۔ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ....

مدینے میں فتح کی خوشخبری

*مدینے میں فتح کی خوشخبری:* مسلمانوں کی فتح ہوچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصدروانہ فرمائے، ایک حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، جنہیں عوالی (بالائی مدینہ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا- اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پر وپیگنڈے کر کر کے مدینے میں ہلچل بپا کر رکھی تھی، یہاں تک کہ یہ خبر بھی اڑا رکھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں، چنانچہ جب ایک منافق نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی قَصْوَاء پر سوار آتے دیکھا تو بول پڑا: "واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ہیں، دیکھو! یہ تو انہی کی اونٹنی ہے، ہم اسے پہچانتے ہیں اور یہ زید بن حارثہ ہے، شکست کھا کر بھاگا ہے اور اس قدر مرعوب ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے۔" بہرحال! جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے، حتیٰ کہ انہیں یقی...

میرا جسم میری مرضی

میرا جسم میری مرضی  میں نے قدرے ناگواری سے ناک پہ ڈوپٹہ سرکاتے ہوے کہا کس قدر بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔۔ ایک تو بس لیٹ اوپر سے اس عجیب سے بندے کی موجودگی نے مجھے کوفت میں مبتلا کر دیا۔۔۔ پھٹا ہوا گریبان، زرد آنکھیں حلقوں سے باہر نکلتی ہوئیں۔۔۔ چہرے اور گردن پر میل کچیل کی کئی پرتیں۔۔۔۔ ناخن عجیب گندے اور لمبے ہو کر آگے سے خم کھاٸے ہوٸے۔۔۔ ڈانگری ٹائیپ پینٹ۔۔۔ بیلٹ کی جگہ سوت کی رسی اور منہ سے ٹپکتی ہوئی رال۔۔۔ پاوں جوتے سے عاری۔۔۔ بال بکھرے ہوے شیو بڑھی ہوئی ۔۔۔ کتنی بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔ حالانکہ میں نے یہ بات سرگوشی میں کہی تھی مگر شائید اس منحوس نے سن لیا تھا۔۔۔ اس نے مجروح سی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔۔۔ اس کا دیکھنا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔ کیوں اوے چرسی آنکھیں کیوں نکال رہا ہے۔۔۔؟؟ میں دھاڑی چرسی نما نے مجھے دیکھا اور چپ چاپ نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔ میں نے موبائل بینچ پہ پٹخا اور اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔ میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے چرسی کے پاس گئ بتا کیا دیکھ رہا تھا ۔۔۔؟؟؟ ارد گرد لوگ متوجہ ہونا شروع ہو گئے۔۔۔ سب کی تمسخرانہ نظریں چرسی پر تھیں ۔۔...