Posts

Showing posts from July, 2018

آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنو حافظ محمد ریحان روفی

Image
آواز پانچ وقت لگاتی ہے مومنو آؤ نماز تم کو بلاتی ہے مومنو الحاج حافظ محمد ریحان روفی کی آواز میں خوبصورت کلام خود بھی سنیں آپ دوستوں کے ساتھ شیئر کریں۔ مزید اسلامی پوسٹوں کے لیے ہماری سائٹ وزٹ کریں اس میں آپ کو حمد و نعت عارفانہ کلام نقابت تلاوتِ قرآن اور حدیث نبوی حدیث قدسی اور بہت سے اسلامی واقعات ملیں گے۔ شکریہ Please Like Share and Commets For More Islamic Information Visit Our Blogger Website Thanks

تن صدقے میرا من صدقے حافظ محمد ریحان روفی

تن صدقے میرا من صدقے جاواں صدقے میں حافظ محمد ریحان روفی کی آواز میں خوبصورت کلام مزید اسلامی پوسٹوں کے لیے ہماری سائٹ وزٹ کریں اس میں آپ کو حمد و نعت عارفانہ کلام نقابت تلاوتِ قرآن اور حدیث نبوی و حدیث قدسی اسلامی واقعات سبق آموز کہانیاں قصص الانبیاء اور بہت سی معلوماتی چیزیں ملتی ہیں پلیز لائک اور شیئر ضرور کریں۔ جزاک اللّہ خیرا Please Like Share and Commets For Islamic Information Visit Our Blogger Site Thanks

مایوس بیٹھا بندا اچانک خوش ہو گیا؟

Image
مایوس بیٹھا بندہ اچانک خوش ہو گیا؟ "ارے رہنے دیجئے جناب ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا اب ۔۔۔۔ پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ تباہی ہے تباہی ۔۔۔ بس اور کچھ نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ " غصہ اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت میں اس نے یہ جملے کہے اور بوہڑ کے درخت کے نیچے بندھی چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔۔ یہ صورت زیادہ نقصان دہ ہوا کرتی ہے کہ جب ایک طرف دماغ اس دباو میں ہو کہ کے رگیں پھٹنے کو آ رہی ہوں اور دوسری طرف دل مایوسی کی ایسی گرفت میں دم دینے کو تیار ہو کہ آنکھیں اس دباؤ کو ہزار آنسو گرانے کے باوجود کم کرنے میں ناکام نظر آئیں۔۔۔۔ وہ شاید اپنی فصل کے تباہ ہونے کا ذہن بنا چکا تھا ۔۔۔۔ امید کا سورج شاید اس کے ہاں اب طلوع نہیں ہونا تھا ۔۔۔ " تمہیں معلوم ہے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں بھی ایک مرتبہ قحط پڑا تھا ۔۔۔ " ایک بھینی سی آواز اسےکانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔ اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ انہیں ساری بستی ادب سے "دادا ابّا" پکارتی تھی ۔۔۔۔ بڑے نیک سیرت تھے ۔۔۔۔۔۔ "ان لوگوں کو بھی بہت مشکلات کا سامنا ت...

سخاوت کا بے مثال نمونہ

Image
سخاوت کا بے مثال نمونہ ------------- حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ  نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مالک بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ نامی ایک جوان تھے۔اس وقت پورے مدینہ میں ان سے زیادہ متمول اور صاحب حیثیت کوئی نہ تھا۔ایک دفعہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے ان کا گزر ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے: "اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر دیں۔جس دن اس (سونے چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس( تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی،(اور ان سے کہا جائے گا)کہ یہ وہی(مال) ہےجو تم نے اپنی جانوں(کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا،سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے۔ (سورۃ التوبہ:35،34) ان آیتوں کا اس جوان کے کانوں میں پڑنا تھا کہ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔جب ہوش آیا تو مصطفٰی جانِ رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:کیا اس سے سونے چاندی کو ذخیرہ کر کے رکھنا مراد ہے؟۔ سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا:ہاں ب...