مایوس بیٹھا بندا اچانک خوش ہو گیا؟
مایوس بیٹھا بندہ اچانک خوش ہو گیا؟
"ارے رہنے دیجئے جناب ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا اب ۔۔۔۔ پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ تباہی ہے تباہی ۔۔۔ بس اور کچھ نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ "
غصہ اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت میں اس نے یہ جملے کہے اور بوہڑ کے درخت کے نیچے بندھی چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔۔
یہ صورت زیادہ نقصان دہ ہوا کرتی ہے کہ جب ایک طرف دماغ اس دباو میں ہو کہ کے رگیں پھٹنے کو آ رہی ہوں اور دوسری طرف دل مایوسی کی ایسی گرفت میں دم دینے کو تیار ہو کہ آنکھیں اس دباؤ کو ہزار آنسو گرانے کے باوجود کم کرنے میں ناکام نظر آئیں۔۔۔۔
وہ شاید اپنی فصل کے تباہ ہونے کا ذہن بنا چکا تھا ۔۔۔۔
امید کا سورج شاید اس کے ہاں اب طلوع نہیں ہونا تھا ۔۔۔
" تمہیں معلوم ہے
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں بھی ایک مرتبہ قحط پڑا تھا ۔۔۔ "
ایک بھینی سی آواز
اسےکانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ انہیں ساری بستی ادب سے "دادا ابّا" پکارتی تھی ۔۔۔۔ بڑے نیک سیرت تھے ۔۔۔۔۔۔
"ان لوگوں کو بھی بہت مشکلات کا سامنا تھا ۔۔۔۔"
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہنا شروع کیا ۔۔۔۔
"جانور دودھ نہیں دے پا رہے تھے ۔۔۔ لوگ پانی تک کے لیے پریشان تھے ۔۔۔بارش تھی کہ ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔۔۔"
"پھر ۔۔۔۔ ؟"
وہ دلچسپی لیتے ہوئے ۔۔۔ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
" پھر یہ کہ وہ مایوس نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ جس کے پاس محبوب خدا جیسا رسول ہو اس کو مایوسی زیب نہیں دیتی۔۔۔۔
ایک صحابیِ رسول حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللّٰه! صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ، اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرما دیجئے وہ ہلاک ہو رہی ہے۔
سرکارِ کائنات صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا: تم حضرت عمر رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور بشارت دے دو کہ بارش ہو گی۔
تو کیا تمہارا ان سے کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔ ؟ یا وہ تمہاری فریاد سن نہیں سکتے ۔۔۔۔ ؟ یا ان کے پاس اختیار نہیں۔۔۔؟
جب ایسا کچھ نہیں تو مانگو ان سے۔۔۔ اور خوب مانگو۔۔۔ بلکہ ہر پریشانی میں مانگو۔۔۔ ہر چیز مانگو۔۔۔ وہ دیتے ہیں، وہ دینگے۔۔۔۔ کیونکہ منع کرنا ان کی عادت نہیں ہے۔۔۔
ہم بھکاری
وہ کریم، اُن کا خدا اُن سے فزوں
اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللّٰه کی
آخر کیا چیز تمہیں روکے ہوئے ہے ان سے مانگنے سے۔۔۔۔ ختم کرو یہ مایوسی ۔۔۔۔ بس مانگتے رہو ان سے ۔۔۔۔ ان سے مانگتے رہو ۔۔۔۔ ان سے مانگتے رہو ۔۔۔۔ "
وہ کہتے کہتے واپس چل دئیے تھے ۔۔۔۔ اور اس کی مایوسی بھی گویا ساتھ لے گئے تھے ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تھے مگر امید کے آنسو ۔۔۔۔۔ خوشی کے آنسو ۔۔۔۔
مالکِ کونین ہیں
وہ پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں
"ارے رہنے دیجئے جناب ۔۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو گا اب ۔۔۔۔ پہلے بھی ایسا ہی ہوا تھا ۔۔۔۔ تباہی ہے تباہی ۔۔۔ بس اور کچھ نظر نہیں آرہا ۔۔۔۔۔ "
غصہ اور مایوسی کی ملی جلی کیفیت میں اس نے یہ جملے کہے اور بوہڑ کے درخت کے نیچے بندھی چارپائی پر ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔۔
یہ صورت زیادہ نقصان دہ ہوا کرتی ہے کہ جب ایک طرف دماغ اس دباو میں ہو کہ کے رگیں پھٹنے کو آ رہی ہوں اور دوسری طرف دل مایوسی کی ایسی گرفت میں دم دینے کو تیار ہو کہ آنکھیں اس دباؤ کو ہزار آنسو گرانے کے باوجود کم کرنے میں ناکام نظر آئیں۔۔۔۔
وہ شاید اپنی فصل کے تباہ ہونے کا ذہن بنا چکا تھا ۔۔۔۔
امید کا سورج شاید اس کے ہاں اب طلوع نہیں ہونا تھا ۔۔۔
" تمہیں معلوم ہے
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے دور میں بھی ایک مرتبہ قحط پڑا تھا ۔۔۔ "
ایک بھینی سی آواز
اسےکانوں میں رس گھولتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک بزرگ کھڑے تھے ۔۔۔۔۔ انہیں ساری بستی ادب سے "دادا ابّا" پکارتی تھی ۔۔۔۔ بڑے نیک سیرت تھے ۔۔۔۔۔۔
"ان لوگوں کو بھی بہت مشکلات کا سامنا تھا ۔۔۔۔"
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہنا شروع کیا ۔۔۔۔
"جانور دودھ نہیں دے پا رہے تھے ۔۔۔ لوگ پانی تک کے لیے پریشان تھے ۔۔۔بارش تھی کہ ہو کر نہیں دے رہی تھی ۔۔۔"
"پھر ۔۔۔۔ ؟"
وہ دلچسپی لیتے ہوئے ۔۔۔ سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
" پھر یہ کہ وہ مایوس نہیں ہوئے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ جس کے پاس محبوب خدا جیسا رسول ہو اس کو مایوسی زیب نہیں دیتی۔۔۔۔
ایک صحابیِ رسول حضرت بلال بن حارث رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سلطانِ دو جہاں صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ کی قبرِ انور پر حاضر ہو کر عرض کی: یا رسولَ اللّٰه! صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ، اپنی امت کے لئے بارش کی دعا فرما دیجئے وہ ہلاک ہو رہی ہے۔
سرکارِ کائنات صَلَّی اللّٰهُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّمَ نے خواب میں ان سے ارشاد فرمایا: تم حضرت عمر رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس جا کر میرا سلام کہو اور بشارت دے دو کہ بارش ہو گی۔
تو کیا تمہارا ان سے کوئی رشتہ نہیں ۔۔۔ ؟ یا وہ تمہاری فریاد سن نہیں سکتے ۔۔۔۔ ؟ یا ان کے پاس اختیار نہیں۔۔۔؟
جب ایسا کچھ نہیں تو مانگو ان سے۔۔۔ اور خوب مانگو۔۔۔ بلکہ ہر پریشانی میں مانگو۔۔۔ ہر چیز مانگو۔۔۔ وہ دیتے ہیں، وہ دینگے۔۔۔۔ کیونکہ منع کرنا ان کی عادت نہیں ہے۔۔۔
ہم بھکاری
وہ کریم، اُن کا خدا اُن سے فزوں
اور نا کہنا نہیں عادت رسول اللّٰه کی
آخر کیا چیز تمہیں روکے ہوئے ہے ان سے مانگنے سے۔۔۔۔ ختم کرو یہ مایوسی ۔۔۔۔ بس مانگتے رہو ان سے ۔۔۔۔ ان سے مانگتے رہو ۔۔۔۔ ان سے مانگتے رہو ۔۔۔۔ "
وہ کہتے کہتے واپس چل دئیے تھے ۔۔۔۔ اور اس کی مایوسی بھی گویا ساتھ لے گئے تھے ۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی آنسو تھے مگر امید کے آنسو ۔۔۔۔۔ خوشی کے آنسو ۔۔۔۔
مالکِ کونین ہیں
وہ پاس کچھ رکھتے نہیں
دو جہاں کی نعمتیں ہیں ان کے خالی ہاتھ میں

Comments
Post a Comment