سمجھنے کی بات
بیٹی نے ماں کو فون کیا۔ کہا؛ میری نند بچوں سمیت رہنے آگئی ہے۔ پہلے ھی سارے گھر کے تینوں وقت کھانے کے برتن دھونے اور صفائی کی میری ذمہ داری ہے۔ اب مزید بوجھ بڑھ جائیگا۔ آپ مجھے چند دن کیلئے میکہ بُلوا لیں۔ خیر ! ماں نے بیٹی کے سسرال فون پر اجازت طلب کرکے اپنی بیٹی کو چند دن آرام کی غرض سے بلوا لیا۔ بیٹی بچوں سمیت آگئی تو اِسی گھر کی بہو نے کہا؛ مجھے دن چند کیلئے بچوں سمیت اجازت دیدیں، میں امی کے گھر رہ آؤں۔ تو ساس صاحبہ چِڑ کر بولیں؛ گھر مہمان آئے ہوئے ہیں۔ کام بڑھ گیا ھے۔ لہذا اِنکے ہوتے جانا مناسب نہیں۔ ۔ اب ویسے ایسا آئینہ ایجاد ہونا ضروری جو بندے کو اُسکا ایک ھی موقع پر دو متضاد رویوں والا چہرہ صاف دکھا سکے۔