Posts

Showing posts from March, 2020

تم ہی میرے مخلص بندے ہو۔

ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿّﺪﻧﺎ ﺟﻨﯿﺪ ﺑﻐﺪﺍﺩﯼ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﮏ ﺭﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﯿّﺪﻧﺎ ﺳَﺮِﯼ ﺳَﻘﻄﯽ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻗﯿﺎﻡ ﮐِﯿﺎ۔ ﺟﺐ ﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﮐﭽﮫ ﺣِﺼّﮧ ﮔُﺰﺭ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﮮ ﺟﻨﯿﺪ ) ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠّﮧ ﻋﻠﯿﮧ ( ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺳﻮ ﮔﺌﮯ ... ؟ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ .. ﺣﻀﻮﺭ !... ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮒ ﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ۔ . ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﺑﮭﯽ ﺍﺑﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺧﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺮﻭﺭﺩِﮔﺎﺭ ﻋﺰﻭﺟﻞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺑُﻼ ﮐﺮ ﺍِﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ... ﺍﮮ ﺳَﺮِﯼ !... ﮐﯿﺎ ﺗُﻮ ﺟﺎﻧﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﮐﯿﻮﮞ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ?... . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ .. ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﺎﻟﻖ ﻋﺰ ﻭ ﺟﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻌﻠﻮﻡ۔ . ﺍﻟﻠّﮧ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﻭ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍِﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐِﯿﺎ ﺗﻮ ﺳﺐ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺤﺒّﺖ ﮐﺎ ﺩﻋﻮﯼٰ ﮐِﯿﺎ۔ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﮐِﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺱ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﻣﺤﺒّﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ۔ . ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﮐﻮ ﭘﯿﺪﺍ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻮ ﮨﺰﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧﻮ ﺳﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﻣﺤﺒّﺖ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﮭﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮐﭽﮫ ﺁﻻﻡ ﻭ ﻣﺼﺎﺋﺐ ﻧﺎﺯﻝ ﮐﯿﮯ ﺗﻮ ﺍﻥ ﻣﺼﯿﺒﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺳﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻧَﻮﮮ ﻣﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ۔ ﺑﻘﯿﮧ ﺩﺱ ﺑﭽﮯ۔ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ....

مدینے میں فتح کی خوشخبری

*مدینے میں فتح کی خوشخبری:* مسلمانوں کی فتح ہوچکی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کو جلد از جلد خوشخبری دینے کے لیے دو قاصدروانہ فرمائے، ایک حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، جنہیں عوالی (بالائی مدینہ) کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا اور دوسرے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ، جنہیں زیرین مدینہ کے باشندوں کے پاس بھیجا گیا تھا- اس دوران یہود اور منافقین نے جھوٹے پر وپیگنڈے کر کر کے مدینے میں ہلچل بپا کر رکھی تھی، یہاں تک کہ یہ خبر بھی اڑا رکھی تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قتل کر دیئے گئے ہیں، چنانچہ جب ایک منافق نے حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اونٹنی قَصْوَاء پر سوار آتے دیکھا تو بول پڑا: "واقعی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قتل کردیئے گئے ہیں، دیکھو! یہ تو انہی کی اونٹنی ہے، ہم اسے پہچانتے ہیں اور یہ زید بن حارثہ ہے، شکست کھا کر بھاگا ہے اور اس قدر مرعوب ہے کہ اس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کہے۔" بہرحال! جب دونوں قاصد پہنچے تو مسلمانوں نے انہیں گھیر لیا اور ان سے تفصیلات سننے لگے، حتیٰ کہ انہیں یقی...

میرا جسم میری مرضی

میرا جسم میری مرضی  میں نے قدرے ناگواری سے ناک پہ ڈوپٹہ سرکاتے ہوے کہا کس قدر بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔۔ ایک تو بس لیٹ اوپر سے اس عجیب سے بندے کی موجودگی نے مجھے کوفت میں مبتلا کر دیا۔۔۔ پھٹا ہوا گریبان، زرد آنکھیں حلقوں سے باہر نکلتی ہوئیں۔۔۔ چہرے اور گردن پر میل کچیل کی کئی پرتیں۔۔۔۔ ناخن عجیب گندے اور لمبے ہو کر آگے سے خم کھاٸے ہوٸے۔۔۔ ڈانگری ٹائیپ پینٹ۔۔۔ بیلٹ کی جگہ سوت کی رسی اور منہ سے ٹپکتی ہوئی رال۔۔۔ پاوں جوتے سے عاری۔۔۔ بال بکھرے ہوے شیو بڑھی ہوئی ۔۔۔ کتنی بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔ حالانکہ میں نے یہ بات سرگوشی میں کہی تھی مگر شائید اس منحوس نے سن لیا تھا۔۔۔ اس نے مجروح سی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔۔۔ اس کا دیکھنا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔ کیوں اوے چرسی آنکھیں کیوں نکال رہا ہے۔۔۔؟؟ میں دھاڑی چرسی نما نے مجھے دیکھا اور چپ چاپ نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔ میں نے موبائل بینچ پہ پٹخا اور اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔ میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے چرسی کے پاس گئ بتا کیا دیکھ رہا تھا ۔۔۔؟؟؟ ارد گرد لوگ متوجہ ہونا شروع ہو گئے۔۔۔ سب کی تمسخرانہ نظریں چرسی پر تھیں ۔۔...