میرا جسم میری مرضی
میرا جسم میری مرضی
میں نے قدرے ناگواری سے ناک پہ ڈوپٹہ سرکاتے ہوے کہا
کس قدر بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔۔
ایک تو بس لیٹ اوپر سے اس عجیب سے بندے کی موجودگی نے مجھے کوفت میں مبتلا کر دیا۔۔۔
پھٹا ہوا گریبان، زرد آنکھیں حلقوں سے باہر نکلتی ہوئیں۔۔۔ چہرے اور گردن پر میل کچیل کی کئی پرتیں۔۔۔۔ ناخن عجیب گندے اور لمبے ہو کر آگے سے خم کھاٸے ہوٸے۔۔۔
ڈانگری ٹائیپ پینٹ۔۔۔ بیلٹ کی جگہ سوت کی رسی اور منہ سے ٹپکتی ہوئی رال۔۔۔ پاوں جوتے سے عاری۔۔۔ بال بکھرے ہوے شیو بڑھی ہوئی ۔۔۔
کتنی بدبو آ رہی ہے اس بندے سے۔۔۔ حالانکہ میں نے یہ بات سرگوشی میں کہی تھی مگر شائید اس منحوس نے سن لیا تھا۔۔۔
اس نے مجروح سی نگاہوں سے مجھے دیکھا۔۔۔
اس کا دیکھنا تھا کہ میرے تن بدن میں آگ لگ گئی۔۔۔
کیوں اوے چرسی آنکھیں کیوں نکال رہا ہے۔۔۔؟؟ میں دھاڑی
چرسی نما نے مجھے دیکھا اور چپ چاپ نظریں جھکا لیں۔۔۔۔۔ میں نے موبائل بینچ پہ پٹخا اور اٹھ کھڑی ہوئ۔۔۔
میں نے اس کا ہاتھ جھٹکا اور تیزی سے چرسی کے پاس گئ
بتا کیا دیکھ رہا تھا ۔۔۔؟؟؟
ارد گرد لوگ متوجہ ہونا شروع ہو گئے۔۔۔ سب کی تمسخرانہ نظریں چرسی پر تھیں ۔۔۔۔
کچھ تو میری مدد کو بھی آ گئے۔۔۔
تب مجھے احساس ہوا کہ اس معاشرے میں مردوں کی بہ نسبط میری حثیت کٸی گناہ زیادہ ہے۔۔ اس معاشرے میں میری عزت و وقار کے لیٸے درجن بھر لوگ سامنے اگٸے تاکہ مجھے کوٸی تپھڑ نہ لگاٸے۔۔ مجھے کوٸی برا بھلا نہ کہے۔۔ ان کی نظر میں میں صنف نازک ھو۔۔ لیکن پھر بھی میں مردوں سے برابری چاھتی ہوں۔۔ کس چیز کی برابری؟؟ کیسی برابری؟؟ کونسا حق مانگ رہے ہیں؟؟ سچ تو یہ ہے کہ جب بھی میں گھر سے باہر جاتی ہوں تو اپنا چھوٹا کزن ساتھ ھوتا ہے۔۔ وہ بہت چھوٹا ہے لیکن پھر بھی میں مطمٸن ہوتی ہوں کہ کوٸی مرد تو ساتھ ہے۔۔
خیر پوسٹ لمبی ھو رہی ہے تو بات کر رہی تھی اس چرسی موالی کی۔۔۔
موالی، چرسی، جہاز۔۔۔ اس قسم کے القابات مل رہے تھے اسے۔۔۔
میں نے اس کے گریبان کو جھٹکا دیا اور چلائی بتا کیا دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
شدت غضب سے میری آواز پھٹ سی گئی تھی۔۔۔
کوئی لمحہ جاتا کہ میرا ہاتھ چرسی کی تواضع شروع کر دیتی۔۔۔
میں نے چرسی کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
اک جہان تھا ان آنکھوں میں۔۔۔ نفرت، غصہ، بے بسی
دو آنسو اس کی آنکھوں سے نکل کہ گالوں پر بہہ گئے۔۔۔
میں ٹھٹھک سا گئ۔۔۔ اس کے گریبان پر میری گرفت کمزور ہو گئی۔۔۔ دل میں کہیں پشیمانی سی آئی۔۔۔
ان آنسوں نے میرے غصے پر پانی ڈال دیا تھا۔۔۔
میں کچھ پل تو اسے دیکھتی رہی پھر اسے پیچھے کی طرف دھکا دیا اور ڈھیلے قدموں سے چلتی ہوئ واپس آ کے بینچ پہ بیٹھ گئ۔۔۔ لوگ جو تماشے کی آس میں کھڑے تھے بڑبڑاتے ہوٸے چل دیئے۔۔۔
دوبارہ موبائل دیکھنے کی کوشش کی مگر ارتقاز ختم ہو چکا تھا۔۔۔
گہری سانس لی اور موبائل سائیڈ پہ رکھ دیا۔۔۔
یہ میرے اندر کا اضطراب تھا جو مجھے بے چین کر رہی تھی۔۔۔ وہ دو آنکھیں۔۔۔ آنسوں سے لبریز آنکھیں۔۔۔ آخر تھک ہار کے اٹھی اور اس چرسی کی تلاش شروع کی۔۔۔
وہ پاس ہی برگر کی ریڑھی کے ساتھ بینچ پہ بیٹھا تھا۔۔۔
میں جا کر اس کے پاس بیٹھ گئ۔۔۔
جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کے اس کی طرف بڑھائ
یہ لے۔۔۔ چرس لے لینا۔۔۔
میں چرسی نہیں ہوں۔۔۔ اس نے بے زار سی آواز میں کہا
چل ہزار لے۔۔۔ پاوڈر لے لینا۔۔۔ میں نے مزید پانچ سو نکال کے اس کی طرف بڑھائی۔۔۔
میں نشئی نہیں ہوں۔۔۔ اب کے اس کی بیزاری عروج پہ تھی
پھر۔گھر والوں نے گھر سے نکال دیا۔۔۔؟؟؟
وہ خاموش رہا۔۔۔
کیوں بنا رکھا ہے یہ حلیہ بتاتے کیوں نہیں۔۔۔؟ میں نے استفسار کیا۔۔۔؟
میں " لاھور قلندر " کا سپورٹر ہوں۔۔۔
اس کی بھرائی ہوئی آواز نے مجھے سناٹے میں دھکیل دیا۔۔۔
آفسوس ہے تیرے وقت کا جو میں نے برباد کیا۔۔ لیکن کیا ہے نا کہ اس کے علاوہ کوٸی اور چول ہی نہیں تھی۔۔ دل پہ نہ لے۔ ٹیشو لے۔
Comments
Post a Comment