سخاوت کا بے مثال نمونہ

سخاوت کا بے مثال نمونہ
-------------
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ

 نبی کریم ﷺ کے زمانے میں مالک بن ثعلبہ انصاری رضی اللہ عنہ نامی ایک جوان تھے۔اس وقت پورے مدینہ میں ان سے زیادہ متمول اور صاحب حیثیت کوئی نہ تھا۔ایک دفعہ بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے ان کا گزر ہوا اور رسول اللہ ﷺ اس وقت اس آیت کی تلاوت فرما رہے تھے:


"اور جو لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب کی خبر دیں۔جس دن اس (سونے چاندی اور مال) پر دوزخ کی آگ میں تاپ دی جائے گی پھر اس( تپے ہوئے مال) سے ان کی پیشانیاں اور ان کے پہلو اور ان کی پیٹھیں داغی جائیں گی،(اور ان سے کہا جائے گا)کہ یہ وہی(مال) ہےجو تم نے اپنی جانوں(کے مفاد) کے لئے جمع کیا تھا،سو تم (اس مال کا) مزہ چکھو جسے تم جمع کرتے رہے تھے۔
(سورۃ التوبہ:35،34)



ان آیتوں کا اس جوان کے کانوں میں پڑنا تھا کہ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑا۔جب ہوش آیا تو مصطفٰی جانِ رحمت ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا:کیا اس سے سونے چاندی کو ذخیرہ کر کے رکھنا مراد ہے؟۔


سرکارِ دوعالم ﷺ نے فرمایا:ہاں بالکل۔
مالک نے کہا:اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کےساتھ مبعوث فرمایا:آج مالک اس حال میں دن گزارے گا کہ شام کی تاریکی پھیلتے پھیلتے اس کے پاس نہ کوئی درہم بچے گا اور نہ دینار۔چنانچہ جو کچھ اس کے پاس مال و دولت تھا سب اللہ کی راہ میں خیرات کردیا۔


(اسد الغابہ:2/۔456)


Comments

Popular posts from this blog

Who Was The Foster Sister Of Prophet Muhammad(صلی اللہ علیہ وسلم)

اصحاب کہف

کیا مرد اور عورت ایک برتن میں غسل کر سکتے ہیں؟ غسل کا بیان ۔۔ صحیح البخاری۔۔ حدیث 253