حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھَا
اُمُّ المؤمنین
حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھَا
نبی کریم صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دریائے رحمت، چشمہ علم و حکمت اور فیضِ صُحبت سے حصہ پانے والی خوش نصیبوں میں ایک حضرت سیّدتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا بھی ہیں جو کہ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کی صاحبزادی ہیں۔
نام و نسب:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا حُضُور عَلَیْهِ الصَّلٰوۃُ والسَلَام کے اِعلانِ نُبُوَّت سے 5 سال پہلے پیدا ہُوئیں، آپ کا نام حفصَہ اور والِدَہ کا نام زینب بنتِ مَظعُون تھا۔ آپ اپنے والدِ محترم کی ترغیب پر نورِ ایمان سے مشرف ہوئیں اور اپنے پہلے شوہر حضرت خُنیس بن حُذافَہ سہمی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ مُنوَّرَہ ہجرت فرمائی۔
(طبقات کبریٰ، 65/8)
اوصاف و کردار:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نہایت بلند ہمت، بکثرت روزے رکھنے والی اور رات عبادت میں گزارنے والی عابِدہَ و ذَاہدہ خاتون تھیں۔
(سیر اعلام النبلاء، 492/3)
ایک بار جبریل امین عَلَیْهِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اِن کی عبادت و ریاضت کا یوں ذکر فرمایا: "یہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی، رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والی اور جنّت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔"
(الاصابہ، 86/8)
آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کثرت سے تلاوتِ قراٰن کرتی تھیں۔ حق گوئی، حاضر جوابی اور فہم و فراست جیسی عمدہ صفات میں اپنے والدِ محترم کا مِزاج پایا تھا۔
(سیرتِ مصطفٰے، ص662)
حُضُور سے نکاح: حضرت خُنیس بن حُذافَہ سہمی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کی شہادت کے بعد حُضُور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے 3 ہجری میں آپ سے نکاح فرمایا۔
(سُبُلُ الہُدَی و الرشاد، 184/11 ملتقطا)
شوقِ علم:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کو عِلْمِ دِین سے بےحد شَغَف تھا یہی وجہ تھی کہ آپ کو جو بات معلوم نہ ہوتی بلا جھجھک پوچھ لیا کرتیں، ایک بار حضور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جنگِ بدر اور حُدَیبِیَہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں فرمایا: مجھے امید ہے اِنْ شَآءَ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہ جائے گا، آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نے عرض کی، کیا اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے یہ نہیں فرمایا! وَ اِنْ ّمِنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ
ترجمہ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ( پ16، مریم:71) تو حضور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا، اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:
ثُمَّ نُنَجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا (۷۲)
ترجمعہ کنزالایمان: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے
(پ16، مریم:72)
(مسند احمد، 163/10)
شانِ فقاہت: آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا علمِ حَدِیث و فقہ میں مَہارَت رکھتی تھیں یہاں تک کہ حضرت سَیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نے عورتوں کے متعلق شرعی مسائل میں آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کی جانب رجوع فرمایا۔
(در منثور، 653/1)
سَفرِ آخِرَت:- وِصَال سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا
نے اپنا مال صَدَقہ کر دیا اور جائیداد وَقف کر دینے کی وصیت فرمائی۔
(اسد الغابۃ، 75/7)
ماہِ شَعبَانُ المعظم 45 ہجری کو مدینہ منورہ میں روزے کی حالت میں 63 برس کی عمر میں انتقال فرمایا آپ کی تدفیق جنّت البقیع میں دیگر ازواجِ مُطَہَّرات کے پہلو میں کی گئی۔
(سبل الہدی والرشاد، 186/11) (سیرت مصطفےٰ، ص664)
حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھَا
نبی کریم صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے دریائے رحمت، چشمہ علم و حکمت اور فیضِ صُحبت سے حصہ پانے والی خوش نصیبوں میں ایک حضرت سیّدتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا بھی ہیں جو کہ امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کی صاحبزادی ہیں۔
نام و نسب:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا حُضُور عَلَیْهِ الصَّلٰوۃُ والسَلَام کے اِعلانِ نُبُوَّت سے 5 سال پہلے پیدا ہُوئیں، آپ کا نام حفصَہ اور والِدَہ کا نام زینب بنتِ مَظعُون تھا۔ آپ اپنے والدِ محترم کی ترغیب پر نورِ ایمان سے مشرف ہوئیں اور اپنے پہلے شوہر حضرت خُنیس بن حُذافَہ سہمی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کے ساتھ مکہ مکرمہ سے مدینہ مُنوَّرَہ ہجرت فرمائی۔
(طبقات کبریٰ، 65/8)
اوصاف و کردار:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نہایت بلند ہمت، بکثرت روزے رکھنے والی اور رات عبادت میں گزارنے والی عابِدہَ و ذَاہدہ خاتون تھیں۔
(سیر اعلام النبلاء، 492/3)
ایک بار جبریل امین عَلَیْهِ السَّلَام بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے اور اِن کی عبادت و ریاضت کا یوں ذکر فرمایا: "یہ بہت زیادہ روزہ رکھنے والی، رات کو بہت زیادہ قیام کرنے والی اور جنّت میں آپ کی اہلیہ ہیں۔"
(الاصابہ، 86/8)
آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کثرت سے تلاوتِ قراٰن کرتی تھیں۔ حق گوئی، حاضر جوابی اور فہم و فراست جیسی عمدہ صفات میں اپنے والدِ محترم کا مِزاج پایا تھا۔
(سیرتِ مصطفٰے، ص662)
حُضُور سے نکاح: حضرت خُنیس بن حُذافَہ سہمی رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْه کی شہادت کے بعد حُضُور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے 3 ہجری میں آپ سے نکاح فرمایا۔
(سُبُلُ الہُدَی و الرشاد، 184/11 ملتقطا)
شوقِ علم:- آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کو عِلْمِ دِین سے بےحد شَغَف تھا یہی وجہ تھی کہ آپ کو جو بات معلوم نہ ہوتی بلا جھجھک پوچھ لیا کرتیں، ایک بار حضور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جنگِ بدر اور حُدَیبِیَہ میں شریک ہونے والے مسلمانوں کے بارے میں فرمایا: مجھے امید ہے اِنْ شَآءَ اللّٰه عَزَّوَجَلَّ ان میں سے کوئی بھی دوزخ میں نہ جائے گا، آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نے عرض کی، کیا اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے یہ نہیں فرمایا! وَ اِنْ ّمِنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَاۚ
ترجمہ کنزالایمان: اور تم میں کوئی ایسا نہیں جس کا گزر دوزخ پر نہ ہو ( پ16، مریم:71) تو حضور صلی اللّٰه تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جواباً ارشاد فرمایا، اللّٰه عَزَّوَجَلَّ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے:
ثُمَّ نُنَجِی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا (۷۲)
ترجمعہ کنزالایمان: پھر ہم ڈر والوں کو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں چھوڑ دیں گے گھٹنوں کے بل گرے
(پ16، مریم:72)
(مسند احمد، 163/10)
شانِ فقاہت: آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا علمِ حَدِیث و فقہ میں مَہارَت رکھتی تھیں یہاں تک کہ حضرت سَیّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا نے عورتوں کے متعلق شرعی مسائل میں آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا کی جانب رجوع فرمایا۔
(در منثور، 653/1)
سَفرِ آخِرَت:- وِصَال سے قبل آپ رَضِیَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْھا
نے اپنا مال صَدَقہ کر دیا اور جائیداد وَقف کر دینے کی وصیت فرمائی۔
(اسد الغابۃ، 75/7)
ماہِ شَعبَانُ المعظم 45 ہجری کو مدینہ منورہ میں روزے کی حالت میں 63 برس کی عمر میں انتقال فرمایا آپ کی تدفیق جنّت البقیع میں دیگر ازواجِ مُطَہَّرات کے پہلو میں کی گئی۔
(سبل الہدی والرشاد، 186/11) (سیرت مصطفےٰ، ص664)
Comments
Post a Comment