عربوں کی وطن پرستی اور فکرِ اقبال

*#عربوں کی وطن پرستی اور فکرِ اقبالؒ#* -----------------------------------------------------------
ابھی کل کی بات ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو اعلیٰ سول ایوارڈ سے نوازا ہے ۔ یقیناً یہ بات کشمیر کے مسلمانوں کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہو گی ، اور اس تکلیف میں اضافہ اس وجہ سے ہوا کہ یہ ایوارڈ دینے والے بھی اپنے مسلمان ہی تھے ۔ لیکن یہاں جو ضروری بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ ان امرائے عرب کو کشمیر کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم جو کہ مودی کی طرف سے کیے جا رہے ہیں وہ نظر نہیں آئے اور اس غلط اقدام کو کر گزرے جس نے پوری امت کو بالخصوص کشمیر کے مسلمانوں کو دردناک اذیت سے دوچار کیا ؟ اس کا جواب ہم *علامہ اقبال قلندر لاہوری* سے ہی لیتے ہیں ۔ ہم اقبالؒ سے اس مرض کی وجہ بھی پوچھیں گے اور اس مرض کا علاج بھی ۔

علامہ اقبالؒ نے ایک جگہ اپنے شعر میں لکھا ہے ،

*لرد مغرب آں سراپا مکر و فن*

*اہلِ دیں را داد تعلیم وطن*

*ترجمہ :* مغرب کا لارڈ وہ جو سراپا مکر و فن ہے اس نے اہلِ اسلام کو وطن کی تعلیم دی ہے یعنی یہ کہا کہ قومیں وطن سے بنتی ہیں ، دین سے نہیں ۔ (لارڈ انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی حکمران کے ہیں ، علامہ نے اسے یہاں لرد کے طور پر استعمال کیا ہے اور اس سے مراد مغرب کا حکمران طبقہ مراد لیا ہے)۔

اگلے شعر میں علامہ اقبالؒ نے اس لارڈ فرنگی کے نظریہ کے نقصان بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ،

*او بفکر مرکز و تو در نفاق*

*بگذر از شام و فلسطین و عراق*

*ترجمہ :* وہ یعنی لارڈ فرنگی ہمیں اپنے مکر و فریب سے نظریہ اسلام سے دور کرنے کے بعد خود تو مرکز کی فکر میں ہے اور اپنے آپ کو اہلِ یورپ نے اکٹھا اور متحد کر لیا ہے اور تو اے مسلمان وطن پرستی کی وجہ سے اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف لڑ رہا ہے اور ان کی مدد کرنا پسند نہیں کرتا ۔

اگلے اشعار نے امت مسلمہ کو ایک واضح پیغام دیا ہے ، آپ نے لکھا ہے ،

*تو اگر داری تمیزِ خوب و زشت*

*دل نے بندی با کلوخ و سنگ و خشت*

*ترجمہ :* اے مسلمان اگر تو حق و باطل کی تمیز رکھتا ہے تو ڈھیلوں ، اینٹوں اور پتھروں سے دل نہ لگا یعنی وطن کو خدا مت بنا اور اس بنا پر ملت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کر ۔

*نتیجہ :* ان اشعار سے آپ کو بخوبی پتا چل گیا ہو گا کہ اہلِ اسلام کی مرکزیت ختم کرنے کے لیے فرنگی (انگریز) کیا کیا چالیں کھیل رہا ہے اور مسلمانوں کے خون کو سب سے سستا سمجھتا ہے ۔ مسلمانوں کو اس نے وطن پرستی کا سبق پڑھایا اور خود متحد ہے ، اسی وطن پرستی کا نتیجہ تھا وہ سول ایوارڈ جو کہ مودی کو دیا گیا ۔

✍ : ہمنوا فکرِ اقبالؔ

Comments

Popular posts from this blog

Who Was The Foster Sister Of Prophet Muhammad(صلی اللہ علیہ وسلم)

اصحاب کہف

کیا مرد اور عورت ایک برتن میں غسل کر سکتے ہیں؟ غسل کا بیان ۔۔ صحیح البخاری۔۔ حدیث 253