حضرت امیر حمزہؓ کا قبولِ اسلام

*حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا قبول اسلام:*

جب مشرکین اپنی چال میں کامیاب نہ ہوسکے اور مہاجرینِ حبشہ کو واپس لانے کی کوشش میں منہ کی کھانی پڑی تو آپے سے باہر ہوگئے اور لگتا تھا کہ غیظ وغضب سے پھٹ پڑیں گے، چنانچہ ان کی درندگی اور بڑھ گئی، جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے تو اب مکہ میں جو مسلمان بچے کھچے رہ گئے تھے وہ بہت ہی تھوڑے تھے اور پھر صاحب شرف وعزت بھی تھے یا کسی بڑے شخص کی پناہ میں تھے، اس کے ساتھ ہی وہ اپنے اسلام کو چھپائے ہوئے بھی تھے اور حتی الامکان سرکشوں اور ظالموں کی نگاہوں سے دور رہتے تھے، مگر اس احتیاط اور بچاؤ کے باوجود بھی وہ ظلم وجور اور ایذاء رسانی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکے۔

مکہ کی فضا ظلم وجور کے ان سیاہ بادلوں سے گھمبیر تھی کہ اچانک ایک بجلی چمکی اور مقہوروں کا راستہ روشن ہوگیا، یعنی حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوگئے، ان کے اسلام لانے کا واقعہ 6 نبوی کے اخیر کا ہے اور اغلب یہ ہے کہ وہ ماہ ذی الحجہ میں مسلمان ہوئے تھے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص محبت تھی، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دو تین سال بڑے تھے اور ساتھ کے کھیلے تھے، دونوں نے ثویبہ رضی اللہ عنہا کا دودھ پیا تھا اور اس رشتہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دودھ شریک بھائی تھے، وہ ابھی تک اسلام قبول نہیں کئے تھے، لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہر ادا کو محبت کی نظر سے دیکھتے تھے۔

ان کا مذاقِ طبیعت شکار اور سپاہ گری تھا، ان کا معمول تھا کہ منہ اندھیرے تیر کمان لے کر نکل جاتے اور دن بھر کے شکار کے بعد شام میں واپس ہوتے تو پہلے حرم میں جاتے اور طواف کے بعد قریش کے سرداروں کے پاس جاتے جو صحنِ حرم میں بیٹھا کرتے تھے، اس طرح سب سے ان کی دوستی تھی اور سب ان کی قدر کرتے تھے۔

ایک روز آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صفا کی پہاڑی پر سے گزر رہے تھے کہ ابوجہل کا سامنا ہوا، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ازلی دشمن تھا، اس نے آپ کو تنہا دیکھ کر گالیاں دیں اور سخت بدکلامی کی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے اور کچھ بھی نہ کہا، لیکن اس کے بعد اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر پر ایک پتھر دے مارا، جس سے ایسی چوٹ آئی کہ خون بہہ نکلا، پھر وہ خانہ کعبہ کے پاس قریش کی مجلس میں جا بیٹھا۔

دور سے "عبداللہ بن جدعان" کی آزاد کردہ کنیز کوہ صفاء پر واقع اپنے مکان سے یہ سب دیکھ رہی تھی، جب حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شکار سے واپس ہوئے تو اس کنیز نے سارا ماجرا سنایا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ غصے سے بھڑک اٹھے۔

یہ قریش کے سب سے طاقتور اور مضبوط جوان تھے، ماجرا سن کر کہیں ایک لمحہ رکے بغیر دوڑتے ہوئے اور مشتعل ہو کر ابوجہل کی تلاش میں نکلے تو دیکھا کہ وہ مسجد حرام میں بنی مخزوم کے حلقہ میں بیٹھا ہے، سیدھے وہیں پہنچے اور کہا: "تو میرے بھتیجے کو گالی دیتا ہے؟ (تیری اتنی جرآت ؟.. لو) میں بھی اسی کے دین پر ہوں، (اب مجھے بھی گالی دے کر دکھاؤ)، اس کے بعد کمان اس کے سر پر اس زور کی ماری کہ اس کے سر پر زخم آگیا۔

اس پر ابوجہل کے قبیلے بنو مخزوم اور حضرت حمزہ کے قبیلے بنو ہاشم کے لوگ ایک دوسرے کے خلاف بھڑک اٹھے، لیکن ابوجہل نے یہ کہہ کر انہیں خاموش کردیا کہ ابوعمارہ کو جانے دو، میں نے واقعی اس کے بھتیجے کو بہت بُری گالی دی تھی۔

ابتدا میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا اسلام محض اس حمیت کے طور پر تھا کہ ان کے عزیز کی توہین کیوں کی گئی؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حمایت میں انہوں نے اسلام کا اظہار تو کردیا، لیکن گھر پر آئے تو متردد تھے کہ آبائی دین کو دفعتاً کیوں کر چھوڑ دوں؟ تمام دن کی غور و فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ دین حق یہی ہے، اس کے بعد حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں "دارِ ارقم" میں حاضر ہوئے اور کہا: "برادر زادے! خوش ہو جاؤ کہ میں نے ابوجہل سے آپ کا بدلہ لے لیا ہے۔"

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
*"چچا! میں تو اس وقت خوش ہوتا جب آپ دینِ اسلام قبول کر لیتے۔"*

یہ سن کر حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ نے کلمہ شہادت پڑھ لیا، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے کے بعد قریش نے سمجھ لیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قوت کے ساتھ حفاظت و حمایت بھی حاصل ہو گئی ہے، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستانا چھوڑ دیا۔

Comments

Post a Comment

Popular posts from this blog

Who Was The Foster Sister Of Prophet Muhammad(صلی اللہ علیہ وسلم)

اصحاب کہف

کیا مرد اور عورت ایک برتن میں غسل کر سکتے ہیں؟ غسل کا بیان ۔۔ صحیح البخاری۔۔ حدیث 253